• AA+ A++

علماء اعلام کی تصریح اور استقراء کے مطابق ہر دروازے پر اذن دخول کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور ہر امام(ع) کی زیارت کے وقت جس دروازے سے ممکن ہوا ذن دخول لینا ضروری ہے لہذا اب جو نئے دروازے بنائے گئے ہیں انہی دروازوں پررک کر اذن دخول پڑھنا اور پھر اندر جانا چاہیے اور اذن و خول پڑھے بغیر کسی زائر کو نہیں جانا چاہیے۔ سرداب کے اندر جانے کا اذن دخول وہ زیارت ہے جو اگلے صفحات پر زیارت دیگر کے عنوان سے آئیگی اور اسکی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا خَلِیْفَةَ اللهِ

اور اس کے آخر میں اذن و خول کے جملے ہیں لہذا سرداب میں اترنے سے پہلے یہی زیارت دروازے پر کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔ سید بن طاؤس نے بھی سرداب میں جانے کیلئے ایک اذن دخول نقل کیا ہے جس کا مضمون اس اذن دخول جیسا ہے جو ہر امام(ع) کے حرم میں داخل ہونے سے پہلے پڑھا جاتا ہے جسے ہم نے باب زیارت کی دوسری فصل کے شروع میں نقل کیا ہے۔ نیز سرداب میں داخل ہونے کیلئے علامہ مجلسی(رح) نے بھی ایک اذن د خول نقل فرمایا ہے جس کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے

اللَّهُمَّ إِنَّ هَذِهِ بُقْعَةٌ طَهَّرْتَهَا وَ عَقْوَةٌ شَرَّفْتَهَا

اسے بھی ہم زیارات کی دوسری فصل کے آغاز میں نقل کر آئے ہیں پس جب اذن دخول پڑھ چکے تو سرداب کے اندر چلا جائے اور حضرت صاحب العصرؑ کی زیارت اس طرح پڑھے۔ جیسے انہوں نے خود فرمایا ہے چنانچہ شیخ احمد بن ابی طالب طبرسیؒ نے الاحتجاج میں روایت کی ہے کہ کسی شخص نے حضرت سے چند سوال کیے تو ناحیہ مقدسہ سے ان کا جواب محمدحمیری کے پاس آیا جو یوں تھا:

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، لاَ لاَِمْرِہِ تَعْقِلُونَ وَلاَ مِنْ أَوْلِیائِہِ تَقْبَلُونَ  

خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان رحم والا ہے، نہ وہ اس کے فعل پر غور کرتے ہیں اور نہ اس کے دوستوں کی بتائی ہوئی باتیں قبول کرتے ہیں

حِکْمَۃٌ بالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِی النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَ یُوَْمِنُونَ اَلسَّلَامُ عَلَیْنا وَعَلَی عِبادِ اللهِ الصَّالِحِینَ۔

 یہ دانائی کی باتیں ہیں تو کیا ڈرانے والے کافی نہیں ہیں ؟ وہ ایمان نہیں لاتے۔ سلام ہو ہم پر اور خدا کے نیک بندوں پر۔

 

?