• AA+ A++

١۔ بِسْم اللہ پڑھنا

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم : لَایَرُدُّ دُعَاءُ اَوَّلُہُ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رسول اللہؐ فرماتے ہیں: وہ دعا رد نہیں ہوتی جس کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لیا جائے۔
(البرھان فی تفسیر القرآن،ج۱،ص۱۰۰)

٢۔تمجید

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم: اِنَّ کُلُّ دُعَاءِِ لَا یکُونَ قَبْلَہُ تَمْجیْدُٗ فَھُوَ اَبْتَرْ۔

ہر وہ دعا کہ جس سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعریف و تمجید اور حمد و ثنا نہ ہو وہ ابتر ہے اور اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہو گا۔

(مکارم الاخلاق،ص۳۰۸)

٣۔صلوات بر محمد و آل محمد علیھم السلام

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم: صَلَاتُکُمْ عَلَيَّ اِجَابَةُٗ لِدُعَائِکُمْ وَزَکاةُٗ لِاَعْمَالِکُمْ۔

رسول اکرمؐ فرماتے ہیں: تمہارا مجھ پر درود و صلوات بھیجنا تمہاری دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے اور تمہارے اعمال کی زکاة ہے۔
(الامالی للطوسی، ص۲۱۵ )

قال الصادق علیہ السلام: لَا یزَالُ الدُّعَاءُ محجُوباً حَتّٰی یُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

دعا اس وقت تک پردوں میں چھپی رہتی ہے جب تک محمدؐ وآل محمدؐ پر صلوات نہ بھیجی جائے۔
(الکافی،ج۲،ص۲۱۵)

حضرت امام جعفر صادقؑ ایک اور روایت میں فرماتے ہیں: جوشخص خدا سے اپنی حاجت طلب کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات بھیجے پھر دعا کے ذریعہ اپنی حاجت طلب کرے اس کے بعد آخرمیں درود پڑھ کر اپنی دعا کو ختم کرے (تو اس کی دعا قبول ہوگی ) کیونکہ خدا وند کریم کی ذات اس سے بالاتر ہے کہ وہ دعا کے اول و آواخر (یعنی محمدؐ و آل محمدؐ پر درود و صلواة ) کو قبول کرے اور دعا کے درمیانی حصے (یعنی اس بندے کی حاجت ) کو قبول نہ فرمائے۔ (میزان الحکمة حدیث ٥٦٢٠ تا ٥٦٢٥)

٤۔ آئمہ معصومین کی امامت ولایت کا اعتقاد رکھنا اور انہیں واسطہ اور شفیع قرار دینا

قال اللہ تعالیٰ: فَمَنْ سَأَلَنِیْ بِھِمْ عَارِفَاً بِحَقّھِمْ وَمَقَامِھِمْ اَوْجَبْتْ لَہ مِنِّی اَلْاِجَابَةُ

خدا فرماتا ہے کہ جو شخص پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ معصومینؑ کا واسطہ دے کر مجھ سے سوال کرے اور دعا مانگے جبکہ وہ ان کے حق اور مقام کو پہچانتا ہوتو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں۔
(وسائل ،ابواب دعا ،باب ٣٧ حدیث ٧)

قال الباقر علیہ السلام: مَنْ‏ دَعَا اللَّهَ‏ بِنَا أَفْلَحَ‏، وَ مَنْ دَعَاهُ بِغَيْرِنَا هَلَكَ وَ اسْتَهْلَك

یعنی جو شخص ہم اہلبیتؑ کا واسطہ دے کر دعا کرے تو وہ شخص کامیاب و کامران ہےاور جس نے ہمارے غیر کا واسطہ دیا وہ ھلاک ہوا۔

(وسائل ،ابواب دعا ،باب ٣٧ حدیث ۱۰)

٥۔ گناہوں کا اقرار کرنا

قال الامام الصادق علیہ السلام: إِنَّمَا هِيَ‏ الْمِدْحَةُ ثُمَّ الثَّنَاءُ ثُمَّ الْإِقْرَارُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ الْمَسْأَلَةُ إِنَّهُ وَ اللَّهِ مَا خَرَجَ عَبْدٌ مِنْ ذَنْبٍ إِلَّا بِالْإِقْرَار 

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ دعا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے خدا کی حمد و تعریف کرو پھر گناہوں کا اقرار اور پھر اپنی حاجت طلب کرو اللہ کی قسم انسان کا گناہ فقط اقرار کے زریعہ ہی معاف ہوتا ہے۔
(الکافی،ج۲،ص۴۸۴)

٦۔ خشوع و خضوع کے ساتھ اور غمگین حالت میں دعا مانگنا

قال اللہُ:يَا عِيسَى ادْعُنِي دُعَاءَ الْحَزِينِ الْغَرِيقِ الَّذِي لَيْسَ لَهُ مُغِيثٌ يَا عِيسَى‏ سَلْنِي‏ وَ لَا تَسْأَلْ‏ غَيْرِي‏ فَيَحْسُنَ مِنْكَ الدُّعَاءُ وَ مِنِّي الْإِجَابَة

خدا فرماتا ہے اے عیسیٰؑ مجھ سے اس غرق ہونے والے غمگین انسان کی طرح دعا مانگو جس کا کوئی فریادرس نہ ہو اے عیسی مجھ سے مانگو میرے غیر سے نہ مانگو دعا کرنا تمہارا کام اور قبول کرنا میرا کام ہے۔

(عدة الداعی فی نجاح الساعی،ص۱۳۴) 

٧۔ دو رکعت نماز پڑھنا

امام جعفر صادقؑ فرماتے جو شخص دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد دعا کرے تو خدا اسکی دعا قبول فرمائے گا۔ (میزان الحکمة حدیث ٥٦٣٥)

٨۔ اپنی حاجت اور مطلوب کو زیادہ نہ سمجھو

رسول اکرمؐ سے روایت ہے خدا فرماتا ہے کہ اگر ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے مل کر مجھ سے دعا مانگیں اور میں ان سب کی دعاؤں کو قبول کر لوں اور ان کی حاجات پوری کر دوں تو میری ملکیت میں مچھر کے پر کے برابر بھی فرق نہیں آئے گا۔ (میزان الحکمة حدیث ٥٦٣٩)

٩۔ دعا کو عمومیت دینا

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم: اِذا دَعَا اَحَدَکُمْ فَلْيُعِمَّ فَاِنَّہُ اَوْجَبَ لِلدُّعَاءِ

پیغمبراکرمؐ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو اسے چاہیے کہ کہ اپنی دعا کو عمومیت دے یعنی دوسروں کو بھی دعا میں شریک کرے کیونکہ ایسی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہے ۔(الکافی،ج۲،ص۴۸۷)

قال الامام الصادق علیہ السلام: مَنْ قَدَّمَ اَرْبَعِیْنَ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ ثُمَّ دَعَاہ اَسْتُجِیبُ لَہُ

جس نے چالیس مومنین کو دعا میں شامل کیا پھر دعا کی اس کی دعا قبول ہو جائے گی۔

(الکافی،ج۲،ص۵۰۹)

?