• AA+ A++

اس میں زیارت کے ان آداب کا ذکر ہے کہ زائرین کو دوران سفر اور حرم مطہر میں جن کا لحاظ رکھنا چاہیے اور وہ چند امور ہیں۔ ﴿۱﴾زیارت کیلئے جانے سے قبل تین دن روزہ رکھے اور تیسرے دن غسل کرے جیسا کہ امام جعفر صادقؑ نے اس کا حکم صفوان کو دیاتھا جس کا ذکر ساتویں زیارت کے تحت آئے گا شیخ محمد بن مشہدی نے عیدین کی زیارت کے مقدمہ میں کہا ہے کہ جب زیارت کو جانے کا قصد کرے تو پہلے تین دن روزہ رکھے اور تیسرے دن غسل کرے اور اپنے اہل و عیال کو اپنے پاس جمع کر کے یہ پڑھے:

اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْتَوْدِعُکَ الْیَوْمَ نَفْسِی وَأَھْلِی وَمالِی وَوَلَدِی وَکُلَّ مَنْ کانَ مِنِّی بِسَبِیلٍ الشَّاھِدَ مِنْھُمْ وَالْغائِبَ

اے معبود میں آج تیرے سپرد کرتا ہوں اپنی جان اپنا خاندان اپنا مال اور اولاد اور وہ سب کچھ جو میرے ساتھ متعلق ہے وہ اس وقت حاضر ہے یا غائب

 اَللّٰھُمَّ احْفَظْنا بِحِفْظِ الْاِیمَانِ وَاحْفَظْ عَلَیْنا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنا فِی حِرْزِکَ وَلاَ تَسْلُبْنا نِعْمَتَکَ

اے معبود! ہماری حفاظت کر اپنی نگہبانی سے ہمارے ایمان کی اور ہماری حفاظت فرما‘ اے معبود ہمیں اپنی پناہ میں رکھ ہم سے اپنی نعمت واپس نہ لے

  وَ لاَ تُغَیِّرْ مَا بِنا مِنْ نِعْمَةٍ وَعافِیَةٍ، وَزِدْنا مِنْ فَضْلِکَ إِنَّا إلَیْکَ راغِبُونَ۔

اور تبدیلی نہ کر اس میں جو نعمت اور سکھ ہمیں دیا ہے اور ہم پر زیادہ فضل فرما کہ ہم نے تیری طرف رغبت کی ہے۔

اس کے بعد نہایت عاجزی اور فروتنی کے ساتھ گھر سے نکلے اور یہ کلمات کثرت سے دہراتا جائے:

لَا اِلَہَ اِلَّا ﷲُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلہِ۔

اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے۔

پھر خدائے تعالیٰ کی ثنا حضرت رسول اور انکی آل پر درود پڑھتے ہوئے بڑے وقار اور آہستگی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چلے۔ ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ امام حسینؑ کے زائر کے پسینے کے ہر قطرے سے ایک ہزار فرشتے پیدا فرماتا ہے۔ جو خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور خود اس شخص کے لیے اور ہر زائر کے لیے قیامت تک استغفار کرتے رہتے ہیں۔ ﴿۲﴾حضرت امام جعفر صادقؑ  سے روایت ہوئی ہے کہ جب حضرت امام حسینؑ کی زیارت کو جائے تو اسکے سر کے بال الجھے ہوئے اور گرد آلود ہوں اور زائر بھوکا پیاسا ہو کہ آنجناب اسی حالت میں شہید کیے گئے تھے پس وہاں اپنی حاجات طلب کر ے پھر اپنے گھر لوٹ آئے اور کربلا کو اپنا وطن نہ بنائے۔ ﴿۳﴾زیارت پر جاتے ہوئے لذیذ غذائیں جیسے حلوہ اور بریانی کو اپنا زاد راہ نہ بنائے بلکہ روٹی دودھ اور دہی وغیرہ کو اپنی غذا قرار دے‘ امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں سن رہا ہوں کہ بعض لوگ امام حسینؑ کی زیارت کے لیے جاتے ہیں جو اپنے ساتھ ایسی غذارکھتے ہیں جس میں بکرے کی بھنی ہوئی ران اور حلوہ ہوتا ہے حالانکہ یہی لوگ جب باپ یا رشتے داروں کی قبروں پر جاتے ہیں تو ایسی غذائیں ساتھ نہیں لے جاتے ایک اور معتبر روایت میں ہے کہ امام صادقؑ نے مفضل بن عمر سے فرمایا کہ حضرت امام حسینؑ کی اس طرح سے زیارت کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کی زیارت نہ کی جائے اور پھر فرمایا کہ امام حسینؑ کی زیارت نہ کر نے کی بجائے بہتر ہے کہ تم ان کی زیارت کرو﴿یعنی امام مظلوم کی زیارت کرو﴾۔ مفضل کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور آپ نے میری کمر توڑ دی ہے! آپ نے فرمایا کہ قسم بخدا اگر تم اپنے باپ دادا کی قبروں پر جاؤ تو حالت رنج و غم میں جاتے ہواور امام مظلوم کے مزار پر جاتے وقت اپنے ہمراہ بہترین غذائیں لے کر جاتے ہو۔ حالانکہ تمہیں وہاں پریشان بال اور خاک آلودہ حالت میں جانا چاہیے۔ مولف کہتے ہیں: مالدار آدمی کے لیے کس قدر شا ئستہ ہے کہ اس حدیث کا مطالعہ کرے اور کربلا جاتے وقت راستے میں جب اس کے احباب اس کی ضیافت کریں اور عمدہ غذائیں اس کے سامنے رکھیں تو اس کو قبول نہیں کرنا چاہیں اور کہنا چاہیے کہ ہم تو کربلا کے مسافر ہیں اس طرح کی غذائیں ہمارے لیے مناسب نہیں ہیں۔ شیخ کلینی(رح) نے روایت کی ہے۔ کہ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ کلبیہ نے آپ کا ماتم بپا کیا۔ وہ خود بھی روئیں اور دیگر عورتوں اور باندیوں کو بھی رلایا یہاں تک کہ ان کے آنسو خشک ہو گئے۔ ایک دفعہ کسی نے ان بی بی کے لیے جونی نام کا ایک حلال پرندہ بھیجا تا کہ وہ اسے کھائیں تو ان کے جسم میں اتنی طاقت آ جائے کہ وہ امام حسینؑ کو روسکیں جب انہوں نے اس پرندے کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ ہدیہ ہے جو فلاں شخص نے آپ کیلئے بھیجا ہے کہ آپ اسے کھائیں اور اس سے آپ کے بدن میں امام حسینؑ کو رونے کی طاقت آ جائے تب ان بی بی نے فرمایا کہ ہم کسی شادی میں مشغول نہیں ہیں کہ اس طرح کے کھانے کھائیں۔ پھر بی بی نے حکم دیا کہ اس پرندے کو یہاں سے لے جائیں۔ ﴿۴﴾سفر زیارت کے دوران مستحب ہے کہ انسان عاجزی ،انکساری ،خضوع، خشوع اور ذلیل غلام کی طرح راستہ طے کرے۔ پس آج کل جو لوگ جدید ذرائع جیسے ریل گاڑی اور ہوائی جہاز میں سوار ہو کر جاتے ہیں انہیں بطور خاص یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ دوسرے زائرین پر اپنی بڑائی نہ جتائیں جو بڑی مشقتوں کے ساتھ کربلا معلی پہنچتے ہیں۔ علماء کرام نے اصحاب کہف کے حالات میں نقل کیا ہے کہ وہ دقیانوس کے ہم نشین اور وزیر تھے۔ جب اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے شامل حال ہوئی تو وہ عبادت الہٰی اور اصلاح نفس کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنی بہتری اسی میں دیکھی کہ لوگوں سے کنارہ کشی کر کے ایک غار میں پناہ لیں اور وہاں خدا کی عبادت کیا کریں۔ پس وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر شہر سے نکل پڑے اور جب تین میل کا فاصلہ طے کر چکے تو ان میں سے ایک جس کا نام تملیخا تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اے میرے بھائیو! دنیا کی بادشاہی چلی گئی اور آخرت کی منزل آ پہنچی ہے اب اپنے گھوڑوں سے اترو اور پاپیادہ اللہ کے حضور چلو‘ شاید کہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کشادگی کی راہ نکالے۔تب وہ گھوڑوں سے اترے اور سات فرسخ ﴿۵۲ میل﴾ پیدل سفر کیا جس سے ان کے پاؤں زخمی ہو گئے اور ان سے خون بہنے لگا۔ اسی طرح امام حسینؑ کے زائرین کو بھی اس امر کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔ وہ اس بات کو سمجھیں کہ وہ اس راستے میں جس قدر تواضع اور انکساری اختیار کریں گے وہ ان کی بلندی کا موجب ہو گی۔ چنانچہ امام حسینؑ کی زیارت کے آداب کے بارے میں امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ جو شخص امام مظلوم کی زیارت کرنے پاپیادہ جائے تو خدا تعالیٰ اس کے ہر قدم پر ایک ہزار نیکیاں لکھے گا اس کے ایک ہزار گناہ مٹا دے گا اور جنت میں اس کے ایک ہزار درجے بلند فرمائے گا جب زائر نہر فرات پہنچے تو وہاں غسل کرے اور جوتے اٹھائے ننگے پاؤں ایک ذلیل غلام کی طرح حرم مطہر کی طرف روانہ ہو۔ ﴿۵﴾اگر راستے میں دیکھے کہ امام حسینؑ کے زائر تھکے ہوئے ہیں اور دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں تو جہاں تک ہو سکے ان کی مدد و خدمت کرے اور ان کو منزل پر پہنچانے کی کوشش کرے‘ یاد رہے کہ نہ ان کو کمتر سمجھے اور نہ ہی ان کو نظر انداز کرے۔ شیخ کلینی(رح) نے معتبر سند کے ساتھ ہارون سے روایت کی ہے کہ میں امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے وہاں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہمارا استخفاف یعنی ہم سے بے پروائی کرتے ہو؟ ان میں سے ایک آدمی جو خراسان کا رہنے والا تھا کھڑا ہو گیا اور عرض کیا ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ آپ کا یا آپ کے حکم کا استخفاف کریں اور اسے حقیر سمجھیں۔ آپ(ع) نے فرمایا کہ ہاں تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو جنہوں نے میری پرواہ نہیں کی اور بے توجہی برتی‘ اس نے کہا میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ کو کمتر گردانوں۔ آپ نے فرمایا تمہارا برا ہو کیا وہ تم ہی نہیں تھے کہ جب ہم حجفہ کے قریب پہنچے تو ایک شخص نے تم سے کہا کہ مجھے تھوڑی دور تک اپنی سواری پر لیے چلو کہ میں تھک گیا ہوں۔ لیکن تم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا اس کی کچھ پروا نہ کی اور آگے نکل آئے۔ پس جو آدمی کسی مومن کو پست سمجھے وہ ہمیں ذلیل و خوار کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کے احترام کو ضائع و برباد کرتا ہے۔ مولف کہتے ہیں: ہم نے تیسرے باب کی پہلی فصل میں آداب زیارت میں سے نویں ادب میں علی بن یقطین کی ایک روایت تحریر کی ہے جو اس مقام سے مناسبت رکھتی ہے۔ پس زائر اسے پڑھے اور اس میں بہترین نصیحت ہے۔ یہ پانچواں ادب جو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے اگرچہ امام حسینؑ کی زیارت کے لیے خاص نہیں ہے‘ لیکن اس زیارت کے سفر سے بھی اس کا بہت زیادہ تعلق ہے۔ لہذا ہم نے یہاں اس کا ذکر کیا ہے۔ ﴿۶﴾ ثقہ جلیل محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام محمد باقرؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کے جد بزرگوار امام حسینؑ کی زیارت کو جائیں تو کیا یہ حج پر جانے کے مترادف نہیں ہے آپ نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے ! میں نے عرض کی تو پھر ہمارے لیے وہی امور ضروری ہیں جو حج کے سفر میں ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا! ہاں تم پر لازم ہے کہ اپنے رفیق سفر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو‘ اچھی بات اور ذکر الہٰی کے سوا کوئی بات نہ کرو‘ تمہارا لباس پاک و پاکیزہ ہونا چاہیے‘ زائر حرم میں جانے سے پہلے غسل کرے اورعاجزی وانکساری کے ساتھ چلے بہت زیادہ نماز یں پڑھے اور محمد و آل محمد پر کثرت سے درود و سلام بھیجے۔ اپنے آپ کو نامناسب و ناروا باتوں اور کاموں سے روکے‘ آنکھوں کو حرام اور شبہ والی چیزوں کی طرف سے بند رکھے‘ پریشان حال برادر مومن کے ساتھ احسان و نیکی کرے اور اگر کسی کے مصارف کم پڑ گئے ہوں تو اس کی مالی امدار کرے اور اپنے مصارف کی رقم خود اس پر تقسیم کر دے‘ تقیہ کرتا رہے کہ دین کی حفاظت تقیہ میں ہے جن چیزوں سے خدائے تعالیٰ نے روکا ہے ان سے بچتا رہے ۔ قسم نہ کھائے اور کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے کہ جس میں اسے قسم اٹھانا پڑے۔ پس اگر تم ان باتوں پر عمل کرو تو زیارت حسین(ع) میں تمہیں حج و عمرہ کا ثواب حاصل ہو گا اور تم کو اس شخص کی طرف سے بھی ثواب ملے گا‘ جس کے لیے تم نے اپنا مال خرچ کیااور اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر آئے ہو۔ وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں اپنی رحمت و خوشنودی سے ہم کنار کر دے گا۔ ﴿۷﴾ ابو حمزہ ثمالی نے امام جعفر صادقؑ سے زیارت امام حسینؑ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: زائر جب کر بلا معلی پہنچے تو اپنا سامان اتار دے‘تیل اور سرمہ نہ لگائے گوشت نہ کھائے جب تک وہاں رہے۔ ﴿۸﴾ فرات کے پانی سے غسل کرے کہ اس کی فضلیت میں بہت سی روایات آئی ہیں اور امام جعفر صادقؑ کی ایک حدیث ہے کہ جو شخص فرات سے غسل کر کے امام حسینؑ کی زیارت کرے تو گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جیسے اپنی پیدائش کے دن گناہوں سے پاک تھا۔ اگرچہ گناہ کبیرہ بھی کئے ہوں۔ روایت میں ہے کہ آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اکثر اوقات ہم امام حسینؑ کی زیارت کو جاتے ہیں۔ لیکن سردی وغیرہ کے باعث غسل نہیں کر پاتے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ جو شخص آب فرات سے غسل کر کے امام حسینؑ کی زیارت کرے اس کے لیے اتنا ثواب لکھا جائے گا جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ بشیر دہان سے روایت ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ جو شخص امام حسینؑ کی زیارت کو جائے اور آب فرات سے غسل ووضو کر لے تو جتنے قدم اٹھا کر وہاں سے روضہ مبار ک پر جائے اور آئے گا خدائے تعالیٰ ہر قدم پر اس کے لیے ایک حج و عمرہ کا ثواب لکھے گا بعض روایتوں میں ہے فرات کے اس حصے میں غسل کرے جو روضہ امام حسینؑ کے مقابل ہے اور بہتر یہ ہے۔ جیسا کہ بعض روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے جب فرات پر پہنچے تو سو مرتبہ اللہ اکبر اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ اور سو مرتبہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر درود بھیجے۔ ﴿۹﴾ جب حائر یعنی روضہ اقدس کے اندر داخل ہونا چاہے تو مشرق والے دروازے سے داخل ہو جیسا کہ امام جعفر صادقؑ نے یوسف کناسی کو حکم دیا تھا۔ ﴿10﴾ ابن قولویہ سے روایت ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے مفضل بن عمر کو کہا کہ اے مفضل! جب تم امام حسینؑ کے روضہ مبارک کے دروازہ پر پہنچو تو رک جاؤ اور یہ کلمات پڑھنا اگر تم نے یہ کلمات کہے تو ہرکلمے کے بدلے تجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت نصیب ہوگی اور وہ کلمات یہ ہیں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ اللهِ

آپ پر سلام ہو اے آدم (ع)کے وارث جو خدا کے برگزیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے نوح (ع)کے وارث جو خدا کے نبی ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراھِیمَ خَلِیلِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ اللهِ

آپ پر سلام ہو اے ابراہیم(ع) کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہو آپ پر اے موسیٰ کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسَی رُوحِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ اللهِ

آپ پر سلام ہو اے عیسیٰ(ع) کے وارث جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد(ص) کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ عَلِیٍّ وَصِیِّ رَسُولِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ الْحَسَنِ الرَّضِیِّ

آپ پر سلام ہواے علی کے وارث جو رسول(ص) کے وصی ہیں آپ پر سلام ہو اے حسن(ع) کے وارث جو پسندیدہ خدا ہیں

 اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ فاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الشَّھِیدُ الصِّدِّیقُ،

‘ آپ پر سلام ہو اے فاطمہ (ع)کے وارث جو رسول(ص) خدا کی دختر ہیں آپ پر سلام ہو اے وہ شہید جو صدیق ہے‘

 اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الْوَصِیُّ الْبارُّ التَّقِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَناخَتْ بِرَحْلِکَ،  اَلسَّلَامُ عَلَی مَلائِکَةِ اللهِ الْمُحْدِقِینَ بِکَ

آپ پر سلام ہو اے وہ وصی جو نیک اور پرہیز گار ہے سلام ہو ان روحوں پر جو آپ کے آستانہ پر اتریں اور اپنی سواریاں یہاں باندھیں سلام ہو خدا کے فرشتوں پر جو آپ کے گرد رہتے ہیں

أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے روکا

 وَعَبَدْتَ اللهَ مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ۔

آپ نے خدا کی بندگی کی حتیٰ کہ آپ شہید ہو گئے آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔

اس کے بعد چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے قبر شریف کی طرف چلے تاکہ اسے اس شخص کا ثواب ملے جو خدا کی راہ میں اپنے خون میں غلطاں ہو۔ جب قبر مبارک کے قریب پہنچے تو اپنے ہاتھوں کو اس سے مس کرے اور کہے:

السَلَّامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللهِ فِیْ اَرْضِہِ وَ سَمَآئِہِ۔

آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اس کی زمین و آسمان میں۔

اب دو رکعت نماز پڑھے حضرت(ع) کے قرب میں پڑھی گئی ایک رکعت کے بدلے میں اسے ہزار حج و عمرہ ، ہزار غلاموں کی آزادی اور ہزار مرتبہ پیغمبر اکرم کے ساتھ رہ کر جہاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ ﴿۱۱﴾ ابو سعید مدائنی کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ آیا میں امام حسینؑ کی زیارت کرنے جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہمارے جد رسول اللہ کے فرزند کی زیارت کو جاؤ اور جب تم زیارت کرو تو آپ کے سر مبارک کی طرف ہزار مرتبہ تسبیح امیر المؤمنینؑ اور پاؤں کی طرف ہزار مرتبہ تسبیح سیدہ فاطمہؑ پڑھنا پھر دو رکعت نماز پڑھنا جس کی پہلی رکعت میں سورہ یاسین اور دوسری رکعت میں سورہ رحمن پڑھنا جب ایسا کروگے تو تمہارے لیئے بہت عظیم اجر ہو گا۔ میں نے عرض کی آپ پر فدا ہو جاؤں مجھے امیر المؤمنینؑ اور سیدہ فاطمہؑ کی تسبیح تعلیم فرمائیے کہ وہ کس طرح ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں اے ابو سعید! امیر المومنینؑ کی تسبیح یہ ہے:

سُبْحانَ الَّذِی لاَ تَنْفَدُ خَزَائِنُہُ سُبْحانَ الَّذِی لاَ تَبِیدُ مَعَالِمُہُ سُبْحَانَ الَّذِی لاَ یَفْنی مَا عِنْدَہُ

پاک ہے وہ جس کے خزانے ختم نہیں ہوئے پاک ہے وہ جس کی نشانیاں مٹتی نہیں پاک ہے وہ کہ جو کچھ اس کے پاس ہے فنا نہیں ہوتا

 سُبْحَانَ الَّذِی لاَ یُشْرِکُ أَحَداً فِی حُکْمِہِ سُبْحانَ الَّذِی لاَ اضْمِحْلالَ لِفَخْرِہِ سُبْحانَ الَّذِی لاَ انْقِطاعَ لِمُدَّتِہِ سُبْحانَ الَّذِی لاَ إلہَ غَیْرُہُ۔

پاک ہے وہ جس کے حکم میں کوئی اس کا شریک نہیں پاک ہے وہ جس کا افتخار کم نہیں ہوتا پاک ہے وہ جس کی بزندگی کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا پاک ہے وہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں

اور تسبیح حضرت زہراءؑ یہ ہے:

سُبْحانَ ذِی الْجَلالِ الْبَاذِخِ الْعَظِیمِ سُبْحَانَ ذِی الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیفِ

پاک ہے وہ جو بڑے جلال و بزرگی کا مالک ہے پاک ہے وہ جو بڑی بلند عزت کا مالک ہے

سُبْحانَ ذِی الْمُلْکِ الْفَاخِرِ الْقَدِیمِ سُبْحَانَ ذِی الْبَھْجَةِ وَالْجَمَالِ 

پاک ہے وہ جو قدیم ملک و افتخار والا ہے پاک ہے وہ جو حسن(ع) و جمال والا ہے

سُبْحانَ مَنْ تَرَدَّیٰ بِالنُّورِ وَالْوَقارِ سُبْحانَ مَنْ یَریٰ أَثَرَ النَّمْلِ فِی الصَّفَا وَوَقْعَ الطَّیْرِ فِی الْھَوَاءِ۔

پاک ہے وہ جس نے نور اور وقارکی ردا پہنی پاک ہے وہ جوپتھر پر چلتی چیونٹی کا نقش پا اور ہوا میں اڑتے پرندے کو دیکھتا ہے۔

اپنی فریضہ و نافلہ نمازیں امام حسینؑ کے تعویذ قبر کے قریب ادا کرے کہ وہاں نماز قبول ہوتی ہے۔ ‘ ﴿12﴾ سید ابن طاؤس نے فرمایا ہے کہ زائر کوشش کرے کہ حائرحسینی میں اس کی کوئی فریضہ اور نافلہ نماز فوت نہ ہو۔ کیونکہ روایت میں ہے کہ قبر امام حسینؑ کے نزدیک فریضہ نماز کا ثواب حج کے برابر اور نافلہ کا ثواب عمرہ کے برابر ہے۔ مؤلف کہتے ہیں:مفضل بن عمر کی روایت میں حائرحسینی میں نماز کے لئے زیادہ ثواب ذکر ہو چکا ہے معتبر روایت میں امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص امام حسینؑ کی زیارت کرے اور ان کے قرب میں دو یا چار رکعت نماز بجا لائے تو اس کے نامہ اعمال میں حج و عمرہ کا ثواب لکھا جائے گا۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز زیارت یا کوئی اور نماز آپ کی قبر مبارک کے پیچھے یا سرہانے کی طرف جہاں بھی ادا کرے بہت بہتر ہے‘ اگر سرہانے کی طرف نماز پڑھنا چاہے تو ذرا پیچھے ہٹ کر پڑھے کہ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ ٹھیک قبر کے سامنے نہ ہو کہ اس صورت میں نماز باطل ہوجاتی ہے۔ جبکہ ہمارے بہت سے زائرین اس مسئلے سے لاعلم ہیں امام جعفر صادقؑ سے ابو حمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں کہ حضرت کے سر کی طرف دو رکعت نماز اس طرح بجا لائے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یاسین اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ رحمن پڑھے اگر چاہے تو حضرت کی قبر کے پیچھے بھی نماز پڑھ لے لیکن بالائے سر نماز پڑھنا زہادہ بہتر ہے۔ جب اس نماز سے فارغ ہو جائے تو پھر جو نماز چاہے‘ وہاں بجا لائے لیکن یہ دو رکعت نماز بجا لانا ضروری ہے ہر اس قبر کے پاس جس کی زیارت کر رہا ہے۔ ابن قولویہ(رح) نے امام محمد باقرؑ  سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اے فلاں جب تمہیں کوئی حاجت درپیش ہو تو امام حسینؑ کی قبر شریف کے نزدیک جا کر چاررکعت نماز بجا لاؤ اور پھر اپنی حاجت طلب کرو۔ کیونکہ وہاں فریضہ نماز کا پڑھنا حج کے برابر اور نافلہ نماز کا پڑھنا عمرہ کے برابر ہے۔

?