• AA+ A++

 11 ھ 28 صفر سوموار کے دن رسول اکرم کی وفات ہوئی ،جبکہ آپ کی عمر شریف تریسٹھ 63 سال تھی ۔

چالیس سال کی عمر میں آپ تبلیغ رسالت کیلئے مبعوث ہوئے ،اس کے بعد تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں لوگوں کو خدا پرستی کی دعوت دیتے رہے ترپن برس کی عمر میں آپ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر ان کے دس سال بعد آپ نے اس دنیائے فانی سے رحلت فرمائی امیرالمؤمنینؑ نے بنفس نفیس آپ کو غسل و کفن دیا حنوط کیا اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی پھر دوسرے لوگوں نے بغیر کسی امام کے گروہ در گروہ آپ کا جنازہ پڑھا، بعد میں امیرالمؤمنینؑ نے آنحضرت کو اسی حجرے میں دفن کیا، جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی ۔

انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے دفن کے بعد جناب سیدہؑ میرے قریب آئیں اور فرمایا اے انس ! تمہارے دلوں نے یہ کس طرح گوارا کیا کہ آنحضرت کے جسد مبارک پر مٹی ڈالی جائے ۔پھر آپ نے روتے ہوئے فرمایا :

یٰا اَبَتَاہُ اَجٰابَ رَبّاً دَعٰاہُ یَا اَبَتَاہُ مِنْ رَبِہِ مَا اَدْنٰاہُ

بابا جان نے رب کی آواز پر لبیک کہا ، بابا جان آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہیں

ایک معتبر روایت کے مطابق بی بیؑ نے آنحضرت کی قبر مبارک کی تھوڑی سی مٹی لے کر آنکھوں سے لگائی اور فرمایا:

مَاذا عَلَی الْمُشْتَمِّ تُرْبَةَ أَحْمَدٍ أَنْ لاَ یَشَمَّ مَدَی الزَّمانِ غَوالِیا

جو احمد مجتبی کی تربت کی خوشبو سونگھے، وہ تا زندگی دوسری خوشبو نہ سونگھے گا

صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّھا صُبَّتْ عَلَی الْاَیّامِ صِرْنَ لَیالِیا

مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں اگر وہ دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے

شیخ یوسف شامی نے درالنظیم میں نقل کیا ہے کہ جناب سیدہؑ نے اپنے والد بزرگوار پر یہ مرثیہ پڑھا :

قُلْ لِلْمُغَیِّبِ تَحْتَ أَطْباقِ الثَّریٰ إنْ کُنْتَ تَسْمَعُ صَرْخَتِی وَنِدائِیا

خاک پردوں میں غائب ہونے والے سے کہو ، اگر تو میری فریاد اور پکار سن رہا ہے

صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّھا صُبَّتْ عَلَی الْاَیَّامِ صِرْنَ لَیالِیا

مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں کہ اگر وہ دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے

قَدْکُنْتُ ذاتَ حِمیً بِظِلِّ مُحَمَّدٍ لاَأَخْشَی مِنْ ضَیْمٍ وَکانَ حِمیً لِیا

میں محمدؐ کی حمایت کے سائے میں تھی مجھے کسی کے ظلم کا ڈر نہ تھا ان کی پناہ میں

فَالْیَوْمَ أَخْضَعُ لِلذَّلِیلِ وَأَتَّقِی ضَیْمِی وَأَدْفَعُ ظالِمِی بِرِدائِیا

لیکن آج پست لوگوں کے سامنے حاضر ہوں  ظلم کا خوف ہے اپنی چادر سے ظالم کو ہٹاتی ہوں

فَإذا بَکَتْ قُمْرِیَّۃٌ فِی لَیْلِھا شَجَناً عَلی غُصْنٍ بَکَیْتُ صَباحِیا

رات کی تاریکی میں جب قمری شاخ پر روئے ، میں شاخ پر صبح کے وقت روتی ہوں

فَلاَجْعَلَنَّ الْحُزْنَ بَعْدَکَ مُؤنِسِی وَلاَجْعَلَنَّ الدَّمْعَ فِیکَ وِشاحِیا

بابا آپ کے بعد میں نے غم کو اپنا ہمدم بنا لیا، آپ کے غم میں اشکوں کے ہار پروتی ہوں

شہید اور کفعمی کے بقول 50ھ میں اٹھائیسویں صفر کو امام حسنؑ کی شہادت ہوئی جبکہ جعدہ بنت اشعث نے معاویہ کے اشارے پر آپ کو زہر دیا تھا ۔

?